بنگلورو،26/اپریل(ایس او نیوز) ٹمکور میں حلیف جماعتوں کے متحدہ امیدوار جے ڈی ایس سربراہ ایچ ڈی دیوے گوڈا کے خلاف کانگریس کے باغی امیدوار کے طور پر نامزدگی داخل کرکے واپس لینے والے رکن پارلیمان ایس پی مدو ہنومے گوڈا اور سابق رکن اسمبلی کے این راجنا پر یہ الزام عائد کیا جارہاہے کہ انہوں نے فی کس 3.5کروڑ روپے لے کر نامزدگی کاغذات واپس لئے تھے۔ اس خصوص میں کانگریس کارکنوں کے درمیان موبائل پر ہوئی بات چیت کا آڈیو وائرل ہوگیا ہے۔ جس میں نائب وزیراعلیٰ پرمیشور کے حامی قرار دئے جانے والے کانگریس سوشیل میڈیا کے سربراہ درشن نے پارٹی کے ایک کارکن سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مدو ہنومے گوڈا اور راجنا دونوں نے فی کس 3.5کروڑ روپے لے کر نامزدگی واپس لی ہے۔ ڈھائی منٹ سے زائد کے آڈیو میں کئی دیگر امور پر بھی بات چیت ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پیسے لینے کے باوجود دونوں قائدوں نے دیوے گوڈا کے حق میں انتخابی مہم نہیں چلائی ہے۔ پیسے لینے کے علاوہ مدو ہنومے گوڈا نے کئی افسروں کے تبادلے کراتے ہوئے کروڑوں روپے ہڑپ کرلئے ہیں۔ درشن نے بتایا ہے کہ انتخابی نتائج آنے کے بعد پرمیشور کو وزیراعلیٰ کا عہدہ ملنے والا ہے، خود دیوے گوڈا نے یہ تیقن دیا ہے، کیونکہ کمار سوامی ناسازی ئ صحت کی بنیاد پر مستعفی ہوجائیں گے۔ جس کے بعد ایچ ڈی ریونا کو نائب وزیراعلیٰ بنایا جائے گا۔ جبکہ نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مدو ہنومے گوڈا اور راجنا نے کسی بھی طرح کی رقم حاصل نہیں کی ہے،۔انہوں نے بتایاکہ کانگریس سوشیل میڈیا کے عہدے سے درشن کو معطل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایاکہ انتخابی مہم کے ساتھ درشن ان کے ساتھ ضرور تھا، مگر یہ بیان اسی نے دیا اس کا انہیں یقین نہیں ہے۔ پرمیشور نے مزید کہاکہ کمار سوامی قیادت والی مخلوط حکومت مستحکم ہے، اس معاملے پر وزیر برائے چھوٹی صنعت وجے ڈی ایس لیڈر ایس آر سرینواس نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آڈیو میں ہوئی بات چیت فرضی ہے۔ کیونکہ ان انتخابات میں کسی بھی قائد کو پیسے نہیں دئے گئے اور نہ ہی ہماری پارٹی سے اور نہ ہی کانگریس سے مدو ہنومے گوڈا اور راجنا کو پیسے دئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں اس بات کا بھی علم نہیں ہے کہ درشن کون ہے۔ وزراء کے پیچھے کئی لوگ رہتے ہیں۔ ان میں سے یہ بھی ایک ہوسکتا ہے۔ سرینواس نے مزید بتایاکہ اگر یہ الزام پارٹی کے کسی ذمہ دار لیڈر کی طرف سے عائد کیا جاتا تو اس کا جواب دیا جاسکتا تھا۔